حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے عالمی سطح پر سائنس اور اسپورٹس کے میدانوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے والے ممتاز افراد اور میڈل جیتنے والوں کے نام اپنے پیغام میں، ملک میں امید، پیشرفت اور نشاط و شادابی کے فروغ میں سائنس اور اسپورٹس کے شعبوں میں نوجوان اور کم عمر کے باصلاحیت افراد اور افتخار حاصل کرنے والوں کے بے مثال کردار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے "ایران کو ہر لحاظ سے مزید طاقتور بنانے" کی کنجی ممتاز صلاحیتوں کے حامل افراد کی جانب سے سائنسی حدود کو عبور کرنا قرار دیا۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ "العلمُ سلطان" (علم، طاقت ہے) کے عظیم اسٹریٹجک اصول کے تحت ملک کی ترقی کے لیے ایک گہری اور تیز رفتار سائنسی تحریک درکار ہے۔ ذمہ داران کو چاہیے کہ اس سائنسی پیشرفت کے لیے بنیادی ڈھانچہ اور سازگار ماحول فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ممتاز صلاحیتوں والے افراد کی انفرادی صلاحیتوں اور اجتماعی دانش سے بھی زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔
رہبر انقلاب اسلامی کا یہ پیغام، جسے آج رات سائنس اور اسپورٹس کے شعبوں میں تمغے جیتنے والوں کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں حجۃ الاسلام والمسلمین حاج علی اکبری نے پڑھ کر سنایا، حسب ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ایک قول کے مطابق آج کل کے ایام سیدۃ نساء العالمین، حضرت صدیقہ طاہرہ، فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کے ایام ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ آپ کی شہادت کا وقت نامعلوم ہے، جس طرح اس نور الٰہی کی تدفین کا باعظمت مقام بھی پوشیدہ ہے اور آپ کا بلند مرتبہ و مقام بھی ایسا ہے جو نامعلوم اور انسانی فہم سے بالاتر ہے۔ آپ عبادت، عبدیت اور خدا کی بندگی میں ایک مثالی شخصیت تھیں۔ رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خاص اور ہمہ جہت ہمراہی اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کی ولایت کا بھرپور دفاع، معرفت کے حصول اور تعلیم، وقت شناسی اور حق کے لیے قیام، استقامت اور وضاحت و تشریح کی سب سے اعلیٰ مثال تھیں۔ اسی طرح صبر، قربانی، ایثار، بے لوث خدمت اور معاشرے میں ہمدردی و غم گساری کی سب سے بڑی نمونہ تھیں۔ بیوی، ماں، اولاد کی تربیت اور ائمہ اطہار علیہم السلام کی نسل کی پرورش میں بھی نمونہ تھیں، جو انسانیت کے رہنما ہیں۔ کوشش، جدوجہد، مجاہدت، پاکیزگی، آراستگی، تقویٰ، نورانیت، روحانیت اور معنویت میں بھی آپ مثال تھیں۔ مختصر یہ کہ آپ تمام اہل ایمان مردوں اور عورتوں کے لیے اسوہ ہیں۔ فاطمی معاشرے کی نمایاں خوبیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ انقلابی اور مسلمان ایرانی قوم کے لیے بڑی سماجی تحریکوں، میدانوں اور جدوجہد و جہاد کے محاذوں میں شرکت، عوامی تحریکوں، حتیٰ کہ علمی میدانوں میں پیشرفت کے عزم اور خاک سارانہ و بے لوث خدمت کا روڈ میپ واضح کرتا ہے۔
ہمارا عزیز ایران اس وقت عزم و امید کا مظہر ہے اور اس امید، پیشرفت اور روشن مستقبل کی جانب قدم بڑھانے میں ممتاز اور باصلاحیت ایرانی نوجوانوں کا کردار بے مثال ہے۔ تاہم ممتاز صلاحیت کا حامل ہونے کا دائرہ صرف علم اور ٹیکنالوجی، اسپورٹس یا مختلف مہارتوں تک محدود نہیں۔ ہر مثبت اور مطلوبہ امتیاز، انسان کو ممتاز بنا سکتا ہے۔ ان دنوں ہم اس سرزمین کے ایسے برگزیدہ لوگوں کی ممتاز حیثیت کا مظاہرہ دیکھ رہے ہیں جو اپنے وطن کے مقدس پرچم کی سربلندی کے لیے ایک وسیع تر افق کو سامنے رکھتے ہوئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ بصیرت اور جہاد کے ممتاز افراد ہیں۔ ہم "ریزعلی خواجوی" اور "علی لندی" جیسے افراد کو ایسی ممتاز شخصیات سمجھتے ہیں جن کے نام ثقافتی مقامات کے دروازوں پر درج ہونے چاہیے۔ اسی طرح کے معاشرے کے روشن ستارے وہ شہداء اور ایثار پیشہ مجاہدین ہیں جنھوں نے اپنے جسم و جان کی قربانی دے کر اسلامی مملکت ایران اور اس کی عزیز قوم کے مستقبل پر غیر معمولی اثرات مرتب کیے اور اپنے واحد و احد معبود سے بندگی کا تمغہ حاصل کیا۔
سب سے پہلے اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے فلکیات اور فلکی طبیعیات، ریاضی، علم الارض، جغرافیہ، طبیعیات، کیمیا، حیاتیات، کمپیوٹر اور مصنوعی ذہانت، انسانی علوم کے اولمپیاڈز میں متعدد تمغے اور سائنسی اعزازات حاصل کرنے اور اسی طرح اسپورٹس میں حالیہ مختلف کامیابیوں پر اپنے ملک کے تمام عزیز عوام اور کامیابی حاصل کرنے والے ایک ایک فرد کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ میں اعزاز و امید کے کارواں کو آگے بڑھانے والوں اور ملک کی ترقی کے علم برداروں کے عزم و ارادے کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، خواہ وہ کم عمر ہوں یا نوجوان، کوچ ہوں یا اساتذہ اور دانشور۔ ملک میں تبدیلی لانے کے لیے ممتاز صلاحیتوں کے حامل افراد کا جذبہ اور امید ایک روشن شعلہ ہے جس کا میں گزشتہ برسوں اور عشروں سے دور اور نزدیک سے مشاہدہ کرتا آیا ہوں۔ ملک میں ممتاز صلاحیت والے افراد اور سائنسی تحریک کی عظیم پیش رفت اور اس کے مظاہر کی صورت میں سائنسی شعبوں، اولمپیاڈز اور اسپورٹس میں بار بار، مسلسل اور ہر سال حاصل ہونے والی چیمپین شپ، پوری ایرانی قوم کے لیے باعث فخر و مسرت ہے۔
حالیہ دنوں اور مہینوں میں مختلف کھیلوں میں ہمارے محنتی کھلاڑیوں کی نمایاں پوزیشن اور نئے ریکارڈ قائم کرنا ان کی کوشش، ہمت، عزم اور ایمان کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ کھلاڑی جو اپنی جسمانی قوت، روحانی، اخلاقی اور ایمانی طاقت اور مسلسل محنت سے تمام اقوام کی نگاہوں کے سامنے عزیز ایران کے اقتدار میں اضافہ کرتے ہیں اور پوری دنیا کو ایرانی قوم کی زندہ دلی دکھاتے ہیں، وہ خواتین کھلاڑی جو ایرانی خواتین کے باوقار لباس کی علامت کو دنیا میں اجاگر کرتی ہیں اور وہ کھیلوں کے تمغے جیتنے والے جو ایرانی قوم کے دلوں میں خوشی اور جوش پیدا کرتے اور اسلامی مملکت ایران کے سربلند پرچم کو عزت بخشتے ہیں، ان میں سے ہر ایک اپنے حصے کے مطابق ایک طاقتور ایران کے تصور کو معنی عطا کرنے میں شریک اور مؤثر ہے۔
چونکہ ان دنوں یونیورسٹیوں، دینی مدارس اور اسکولوں میں نشاط و شادابی اور علم و تحقیق پر توجہ کے دن ہیں، اس لیے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ علم کے شائقین، قوم کے ممتاز صلاحیت والے افراد اور ہمارے عزیز ایران کے دانشوروں سے اس موضوع پر مختصر گفتگو کروں۔
ممتاز صلاحیت کا حامل ہونا ایک الہی نعمت اور عطیہ ہے، جس کی اصل بنیاد استعداد اور ذہانت ہے۔ ایرانی قوم، خصوصاً ہمارے ملک کے نوجوان، خدا کی عطا کردہ اس عظیم نعمت اور دولت سے بہرہ مند ہیں۔ عقل اور بندگی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان الہی نعمت کا شکر احسن طریقے سے ادا کرے۔ اگر شکر اپنے تمام قلبی، زبانی اور عملی مراتب کے ساتھ ادا کیا جائے تو اس نعمت کے کمال تک پہنچنے کا راستہ ہموار ہو جاتا ہے۔ ممتاز صلاحیت کی نعمت کی قدر شناسی سب سے پہلے خود اس ممتاز شخص کو کرنی چاہیے، پھر اس کے اردگرد کے ماحول میں، والدین، اہل خانہ، استاد، مدرسے، یونیورسٹی اور ملکی نظام کی سطح پر بھی اس کی قدر ہونی چاہیے تاکہ اس صلاحیت کو بڑھایا جائے اور درست طور پر استعمال کیا جا سکے۔ اسی بنا پر عملی شکر ادا کرنے کے لحاظ سے ممتاز صلاحیت کے حامل شخص کی ذمہ داری زیادہ سنگین ہے۔ مناسب ہے کہ وہ اپنی صلاحیت کی تقویت کرنے اور اسے بڑھانے کے علاوہ اسے بہترین انداز میں ملک اور معاشرے کے مسائل حل کرنے کے لیے استعمال کرے۔
ممتاز صلاحیت کا حامل شخص وہ نہیں جو غیر معمولی استعداد اور ذہانت رکھنے کی بنا پر خود کو دوسروں سے الگ سمجھتے ہوئے صرف اپنی عارضی اور ذاتی خواہشات کے بارے میں سوچے۔ ممتاز صلاحیت کا حامل شخص وہ ہے جو اپنی صلاحیت کی نشوونما کے لیے فکر مند ہو، خود کو معاشرے کا ایک مؤثر عنصر سمجھے اور اپنی صلاحیت و استعداد کو اپنی اور اپنے معاشرے کی ترقی کے لیے ایک ساتھ استعمال کرے۔ ایران کے ممتاز صلاحیت والے افراد نے دکھایا ہے کہ علم اور استعداد کو عوام اور ملک کے حقیقی مسائل حل کرنے کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔ اسٹیم سیلز، نینو ٹیکنالوجی اور حیاتیاتی ٹیکنالوجیز سے لے کر جدید فضائی و خلائی ٹیکنالوجی، صنعت، کان کنی، طب، زراعت، جوہری توانائی اور بنیادی ڈھانچے تک، وہ اپنے علم اور صلاحیت کو عملی شکل دینے کے لیے کوشاں رہے ہیں۔ ہم سب روزمرہ کی زندگی میں مسلسل آگے بڑھتی ہوئي اس تحریک کے آثار اور مظاہر دیکھتے ہیں۔ بجلی گھروں میں ایرانی ٹربائنوں سے بجلی کی پیداوار، جنوبی جزائر میں سائنس پر مبنی ٹیکنالوجی سے سمندری پانی کو پینے کا پانی بنانے کے پلانٹس، شمالی علاقوں کے کھیتوں، باغات اور دھان کے کھیتوں پر زرعی ڈرونز کی پرواز کے ذریعے زرعی سرگرمیوں اور پانی اور زمین کے استعمال کو بہتر بنانا، رویان انسٹی ٹیوٹ کی جدید ٹیکنالوجیز کے ذریعے بانجھ پن کی شکار فیمیلیز میں بچوں کی پیدائش، نیوکلیائی ادویات سے پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص اور علاج، ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹس سے زمین، پانی اور پیداوار کی نگرانی اور سائنسی و تکنیکی ایجادات کے ذریعے پیداواری صلاحیت اور غذائی سلامتی میں اضافہ، اس عظیم اور بابرکت مجموعے کی چند قابل ذکر مثالیں ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بہت سی مثالیں ہیں، خصوصاً دفاعی اور فوجی شعبوں میں، جنھوں نے وقتاً فوقتاً دنیا کو حیران کیا ہے اور آئندہ بھی ایسا ہی ہوگا۔
ایک طاقتور ایران، سائنسی اور تکنیکی اقتدار کی بنیاد پر قائم ہے اور یہ محور نئے عالمی نظام اور توازن میں ایران کے کردار کے اہم ترین عناصر میں سے ایک ہے۔ لہذا ایران کو ہر لحاظ سے مزید طاقتور بنانے کی کنجی یہ ہے کہ ممتاز افراد سائنسی حدود عبور کریں اور ملک کے سائنسی مسائل کے حل تلاش کریں۔ اسلامی مملکت ایران کے خلاف دشمنوں کی خباثت اور جرائم، خصوصاً سائنس دانوں اور ممتاز شخصیات کو نشانہ بنانا، ملک کی طاقت میں ان کے مؤثر کردار کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ دشمن جو ہماری قوم کے ممتاز سائنس دانوں اور مؤثر شخصیات کو دوسری اور تیسری مسلط کردہ جنگوں میں اور اس سے کئی سال پہلے بھی، علمی مراکز اور ان کی معمول کی زندگیوں میں قتل کرتا ہے، وہ ایران کی ترقی اور اقتدار کو برداشت نہیں کر سکتا۔ وہ ایران عزیز کی ممتاز صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے لیے اپنے تمام وسائل اور طریقے استعمال کرتا ہے، مایوسی پھیلانے اور حوصلہ توڑنے سے لے کر ان کے ذہن و روح پر قبضہ کرنے، نئے سامراجی نظام میں نگل لیے جانے اور انھیں مغرب کے لوٹ مار اور سرمایہ دارانہ نظام کی مشین کا پرزہ بنانے تک۔ وہ اس حقیقت سے غافل ہے کہ اس قوم کے شہید ممتاز صلاحیتوں والے افراد، سائنس دانوں، اساتذہ، اسٹوڈنٹس اور اسکول کے بچوں کے خون کا ایک ایک قطرہ، عزم اور ترقی و پیشرفت کا طوفان برپا کر چکا ہے اور کرتا رہے گا۔
ایرانی قوم کو اپنے قدیم تمدن، علوم و فنون میں مختلف اعزازات اور دنیا کے نامور مفکرین و سائنس دانوں کی موجودگی کے ساتھ، قاجار اور پہلوی ادوار کی دو صدیوں پر محیط شدید پسماندگی اور تاریخی بے عملی و جمود بھی یاد ہے۔ یہ قوم "العلمُ سلطان" (علم طاقت ہے) کے کامیاب عظیم اصول، مغرب کے سائنسی تسلط کو قبول نہ کرنے اور گزشتہ تین عشروں میں ممتاز صلاحیت والے افراد کی تیز رفتار سائنسی و تحقیقی پیشرفت کے نتائج کی قدر کرتی ہے۔ اس پیشرفت کا ایک قابل ذکر حصہ ہمارے عظیم اور شہید رہبر، قدس سرہ کی خصوصی تدابیر اور رہنمائی کا مرہون منت ہے۔ اگر موجودہ مرحلے اور تیسری مسلط کردہ جنگ سے پہلے نئی سائنسی تحریک ممتاز افراد کے لیے ایک ضروری اور لازمی نصیحت تھی، تو حالیہ دو جنگوں کے تجربے نے سب پر واضح کر دیا ہے کہ اس نئی سائنسی تحریک کو زیادہ گہرا اور تیز رفتار ہونا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے سائنسی، تحقیقی اور تکنیکی اداروں اور مراکز کے ذمہ داروں کے علاوہ، عزیز ایران کے تمام ممتاز صلاحیت والے افراد اور دانشوروں کو اسلامی مملکت ایران کے شاندار مستقبل کی تعمیر، ترقی اور خوشحالی کے اپنے بنیادی مشن پر توجہ دیتے ہوئے درج ذیل نکات کو مدنظر رکھنا چاہیے:
اول: ملک میں بیسک سائنسز اور بشریات کی ترقی کے لیے سنجیدہ، عملی اور دقیق منصوبہ بندی موجود ہونی چاہیے۔ طبیعیات، کیمیا، حیاتیاتی علوم اور ریاضی جیسی بیسک سائنسز کی پیشرفت، دیگر علوم اور اپلائیڈ ٹیکنالوجیز کی اصل بنیاد ہونے کے باعث، ملک کی سائنسی اور تکنیکی ترقی کو آگے بڑھاتی ہے۔ جو بھی قوم کسی مقام تک پہنچی ہے، بیسک سائنسز کے ذریعے پہنچی ہے اور ان علوم کی پیشرفت کے بغیر کوئی بھی ملک ہمیشہ پیچھے رہتا ہے۔
دوم: غیر منکشف حقائق کی دریافت، بیسک سائنسز میں حدود عبور کرنے اور ان علوم، خصوصاً ریاضی کے معروف حل طلب مسائل کو حل کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد پر ایک مقصد اور منزل کے طور پر توجہ دی جائے۔
سوم: سائنسی تحریک میں کلیدی حیثیت تخلیقی صلاحیت اور جدت عمل کی ہے۔ تخلیقی صلاحیت اور مثبت تخیل کو موقع دینا، جو تمام یا بیشتر علوم میں ترقی اور نئی راہیں کھولنے کا بنیادی عنصر ہے، نیز سائنسی جرئت، ایجاد، تخلیق، اختراع اور نئے اور غیر آزمودہ راستوں پر چلنے کے لیے ذاتی اور قومی خود اعتمادی میں اضافہ نہایت ضروری اور مفید ہے۔ جو شخص بھی مؤثر تخلیقی صلاحیت پیش کر سکے، اس کے لیے قابل قبول اور پرکشش صلہ مقرر کرنا اس مقصد کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں مؤثر ہے۔
چہارم: سائنسی مسائل کے حل میں خود کفیلی، بنیادی ڈھانچے کی فراہمی اور سرحدوں سے باہر بھی مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے تکنیکی رکاوٹوں کا خاتمہ، اندرونی ڈھانچے کی تقویت اور عالمی سطح پر نئے افق کھولنے کی راہ ہموار کرتا ہے۔
پنجم: عملی اور تجرباتی شعبوں کے ممتاز افراد کی صلاحیتوں کو موقع دینا، بالخصوص طالب علمی کے ابتدائی برسوں ہی سے صنعت اور یونیورسٹی کے درمیان رابطہ قائم کرنا اور علم و سائنس پر مبنی کاروباروں کو آسان بنانا، علم و سائنس کے استعمال اور ممتاز صلاحیت کے حامل افراد کی پیشرفت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ملک کی سائنسی و تکنیکی صلاحیتوں کو ایک سمت میں ہم آہنگ کرنا، ممتاز صلاحیت والے افراد اور سائنسی و تحقیقی مراکز کے درمیان روابط کو نالج بیسڈ کمپنیوں، صنعتوں اور حتیٰ کہ نئے کاروباری اداروں کے ساتھ مضبوط بنانا اور انتظامی اداروں کی جانب سے علم سے لے کر صارف تک کے سلسلے کی حمایت، آج اور کل کے اہم مسائل، مثلاً پانی، زمین، خوراک، توانائی اور مصنوعی ذہانت کے محور پر استاد اور طالب علم کے کام کو یونیورسٹیوں اور تحقیقی مراکز کی تجربہ گاہوں سے ورکشاپوں اور کارخانوں تک منتقل کر سکتی ہے۔ تیز رفتار ترقی اسی وقت ممکن ہے جب معاشی مفادات اور مصنوعات اور سروسز کی مارکٹ کی فراہمی، ممتاز صلاحیت والے افراد کے جذبے اور عزم کے ساتھ جڑ جائے اور علمی و تحقیقی اداروں کا صنعت اور صارفین کی منڈی سے پائیدار اور مسلسل رابطہ قائم ہو۔
اسی طرح یونیورسٹیوں اور دینی مدارس کے فکری اور عملی شعبوں کے ممتاز افراد کا منصوبہ بندی اور پالیسی سازی کی سطح پر براہ راست اور مؤثر کردار ملک کی ترقی میں بہت معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ عہدیداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ فرض شناس ممتاز صلاحیت والے افراد کی انفرادی صلاحیتوں، عقلمندی اور اجتماعی دانش سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
اگر اس راہ پر صحیح طریقے سے عمل کیا گیا تو علم کے مراکز اور خصوصاً بعض بیسک سائنسز کا مرکز تدریجی طور پر مغربی ممالک سے ایران منتقل ہو جائے گا اور کچھ ہی برسوں میں ایران سائنسی اور تکنیکی مرجعیت حاصل کر لے گا۔ اس طرح ہمارے دانشمند اور شہید رہبر اعلیٰ اللہ مقامہ کا یہ پیش کردہ ہدف بھی پورا ہوگا کہ فارسی دنیا کی علمی زبانوں میں سے ایک بنیادی زبان بن جائے۔
ان شاء اللہ، ممتاز علمی و سائنسی شخصیات کی شہادتوں کے خون کی برکت اور ہمارے سرور و مولا امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی دعائے خیر سے قوم کے ممتاز صلاحیت والے افراد اور دانشوروں کی گہری اور تیز رفتار سائنسی تحریک اور ہر لحاظ سے مزید طاقتور ایران کی ہمہ جہت پیشرفت، نئے اسلامی۔ایرانی تمدن تک رسائی کے لیے عملی شکل اختیار کرے اور ممکن ہو جائے۔
سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای
26 اکتوبر 2026










آپ کا تبصرہ